Home / News / International / ’ون پاؤنڈ فش‘ بھی ’گینگنم‘ کی راہ پر

’ون پاؤنڈ فش‘ بھی ’گینگنم‘ کی راہ پر

کیا لندن میں مقیم پاکستان کے محمد شاہد نذیر کا نغمہ ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ یوٹیوب پر اب تک کے مقبول ترین ویڈیو گینگنم کی راہ پر ہے؟

ان دنوں یو ٹیوب پر پاکستان کے محمد نذیر کو مشرقی لندن کے ایک بازار میں مچھلی کے خریداروں کو متوجہ کرنے والا ایک گیت گاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

اس ویڈیو کو اب تک تقریباً چالیس لاکھ لوگوں نے دیکھا ہے اور ان کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

محمد شاہد نذیر کا گیت کچھ اس طرح ہے:

‘کم آن لیڈیز، کم آن لیڈیز، ہیو اے لک، ہیو اے لک، ون پاؤنڈ فش

ویری ویری گڈ، ویری ویری چیپ، ون پاؤنڈ فش، ون پاؤنڈ فش

اس گیت کی خصوصیت یہ ہے کہ ایک بار سننے سے ہی یہ آپ کے ذہن سے ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ شاید یہ اس سال کرسمس پر سب سے مقبول نغموں میں شمار ہو جائے۔

برطانیہ کے ایک روزنامے کے مطابق نذیر کے ایک پاؤنڈ فش والے نغمے کی وجہ سے برطانیہ کی معروف میوزک کمپنی وارنر میوزک نے ان کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے۔

ایک ایسے شخص کے لیے جسے ایکس فیکٹر پینل نے خارج کر دیا ہو ان کے نغمے کے لیے اتنا بڑا معاہدہ غیر معمولی بات ہے۔

اب وارنر میوزک کے حکام نذیر کے نغمے کے بارے میں یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ جنوبی کوریا کےگلوکار سائی کے نغمہ ’گینگنم سٹائل‘ کو ٹکر دے سکتا ہے اور وہ انہیں ایکس فیکٹر میں پیش کر نے کا ارادہ رکھتے ہیں اور یہ امید بھی کرتے ہیں کہ اس سال کے سب سے زیادہ یاد رہنے والے گیت کا اس نغمے کو اعزاز مل جائے گا۔

محمد شاہد نظیر کے نغمے کو قریب چالیس لاکھ لوگوں نے اب تک دیکھا ہے۔

محمد شاہد اپنے حلیے یا بشرے سے کہیں سے بھی پاپ گلوکار نہیں لگتے لیکن وہ جونہی گانا شروع کرتے ہیں لوگ ان کے گرد جمع ہونے لگتے ہیں۔

ان کے گیت کی مقبولیت کے بعد بہت سے لوگ ان سے ملنے مشرقی لندن کے کوئنز مارکیٹ کا رخ کر رہے ہیں۔

بھارت کی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق بیس سالہ یولاندا ریلی کنٹ میں ایشفورڈ سے سفر کر کے وہاں پہنچی۔ ان کا کہنا ہے: ’مجھے اس گیت کا جنون ہے، مجھے ان سے ملنا تھا۔ ان کی بو مچھلی کی طرح ہے لیکن وہ حیرت انگیز ہیں۔ ان سے ملنے کے بعد میں اب بہت خوش ہوں۔‘

شاہد نے کہا کہ ’لوگ آسٹریلیا، امریکہ، کینیڈا اور تمام یورپی ممالک سے یہاں آئے، وہ یہاں کام کرنے یا خریداری کرنے نہیں آئے بلکہ ایک پاؤنڈ فش والے شخص سے ملنے آئے۔‘

شاہد ایک سال قبل ایک بیگ میں اپنا سامان پیک کرکے اس امید پر برطانیہ چلے آئے کہ وہ بہت سارا پیسہ کمائیں گے اور پاکستان میں اپنے بیوی بچوں کو بھیجیں گے۔

پہلے دن کام پر جب ان کے باس نے ان سے چیخ چیخ کر لوگوں کو بلانے کے لیے کہا تو شاہد کو یہ طریقہ پسند نہیں آیا اور انھوں نے یہ گیت بنا ڈالا۔

شاہد نے کہا کہ ہمارے گاہکوں نے کہا کہ ’آپ کا گیت بہت عمدہ اور بہت دلآویز ہے۔‘

لوگوں نے ان سے کہا کہ آپ پاپ سٹار ہو سکتے ہیں آپ ایکس فیکٹر میں شامل ہوں اور وہ اس سال اس میں شامل بھی ہوئے لیکن آڈیشن پینل نے انہیں منتخب نہیں کیا۔

BBC Urdu

Comments

comments

About Ijaz Ahmad Ijaz

Leave a Reply