Home / Blog / Baray Miyaan ka Pakistan

Baray Miyaan ka Pakistan

بڑے میاں کا پاکستان

پاکستان میں میاں بہت مشہور ہیں . کچھ اتنے مشہور ہیں کہ نہ پوچھیں مگر میں جن دو میاں حضرات کا ذکر کر رہا ہوں ان کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے . مجھے نہیں پتہ کہ یہ کس ملک کے رہنے والے ہیں مگر انھیں لوگ بڑے میاں اور چھوٹے میاں کہتے ہیں . شکل سے بنگالی ، قد کاٹھ سے گجراتی اور بول چال سے یہ دونوں سندھی لگتے ہیں . اگر یہ کہا جائے کہ یہ برصغیر کے تارکین وطن ہیں تو شائد درست ہو . یہ اس وقت برطانیہ میں آئے تھے جب پاکستان قائم ہوا تھا . یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ عمروں میں یہ دونوں پاکستان سے بڑے ہیں .

میں نے انھیں اکثر یہاں پاس پارک میں شام کو ٹہلتے دیکھا ہے . مجھے پارک میں ٹہلنے کی عادت نہیں ہے مگر جب سے پرانی پتلونیں تنگ ہونا شروع ہوئی ہیں ایک ڈاکٹر دوست نے مشوره دیا کہ میں بھی پارک میں ٹہلا کروں. میں نے صبح ٹہلنے کی کوشش کی مگر سردی نے ڈرا دیا لہذا میں نے شاموں کو ٹہلنا شروع کیا . یہیں یہ میاں حضرات بھی نظر آئے .

یہ دونوں اکثر والک کرتے کرتے جب تھک جاتے ہیں تو بچوں کے پلے ایریا میں بیٹھ جاتے ہیں اور دن بھر کی خبروں پر تبصرہ کرتے نظر آتے ہیں . ریٹائرڈ ایشائی لوگوں کا برطانیہ میں پاکستان ، انڈیا یا بنگلہ دیش کی سیاسی صورت حال پر بحث کرنا ایک محبوب مشغلہ ہے . کل پارک میں بری تیز ہوا چل رہی تھی . بڑے میاں اور چھوٹے میاں دونوں نہیں آئے . میں نے سوچا کہ شائد موسم کی شدت ان کہ راستے میں آ گئی . آج موسم سرد تھا مگر دھوپ تھی . حسب عادت دونوں آئے ، پارک کا چکر کاٹا اور پلے ایریا میں جا کہ بیٹھ گئے . میں نے دونوں کو حسب معمول سلام کیا ، احوال پوچھے اور کل نہ آنے کی وجہ پوچھی تو دونوں بولے ” میاں تم جوان ہو ہم نے زندگی کے کئی سال یہاں اس سرد خانے میں گزارے ہیں . اب ہمت نہیں .”
آج میں بھی ان دونوں کے پاس بیٹھ گیا . دل بے ایمان ہو تو بندہ بہانے ڈھونڈتا ہے میں نے بھی دل کو تسلی دی کہ آج بیٹھ کہ ہی باتوں باتوں میں سیر کر لیتے ہیں .

بڑے میاں نے کہا ” خبریں سنتے ہو ” میں نے جواب دیا نہیں سنتا . چھوٹے میں بولے “اچھا کرتے ہو “.

ایک نے سوال کیا دوسرے نے جواب کی تائید کر دی . بات ختم .

بڑے میاں نے کہا ” اخبار پڑھتے ہو ” میں نے جواب دیا نہیں . چھوٹے میاں نے پھر کہا “اچھا کرتے ہو “. میرے لیے یہ گفتگو بڑی دلچسپ ہوتی گئی . ایک سوال کرتا دوسرا میرے جواب کی تائید کرتا.

بڑے میاں نے سیاست کی بات کی میں نے سیاست سے خود کو بابلد ظاہر کیا ، بڑے میاں نے امریکہ کہ الیکشن کی بات کی تو میں نے نفی میں جواب دیا ، بڑے میاں نے زرداری ، گیلانی ، راجہ اشرف، جسٹس چودھری ، عمران خان ، نواز شریف ، جنرل کیانی کی بات کی تو میں نے ان سب شخصیات سے نا واقفیت کا اظہار کیا . چھوٹے میاں ہر بات پہ میری تائید کرتے اور کہتے اچھا ہے تمہیں کسی بات کا علم نہیں.

جب یہ دونوں بہت سے سوال کر چکے تو میں نے چھوٹے میاں سے پوچھا کہ آپ میری ہر بات کی تائید کیوں کر رہے ہیں . چھوٹے میاں ہے ہنس کہ کہا ” اگر تم ان سب کو جانتے یا ان پر بات اور بحث کرتے تو مجھے دکھ ہوتا کیونکہ میں اب ان سب کو جان کر بھی انجان ہوں . اپنی دوائی وقت پر لیتا ہوں ، اپنے دوست کے ساتھ شام کو والک کرتا ہوں اور رات کو اپنے پوتوں کو بستر میں سونے کے لیے چھوڑنے جاتا اور خود سو جاتا ہوں . جب پنشن ملتی ہے تو اس کا کچھ حصہ مسجد میں دے دیتا ہوں اور باقی کا خرچہ میرا اپنے پوتوں کی آئس کریم اور چاکلیٹس کا ہوتا ہے ” میں نہ اخبار خریدتا ہوں اور نہ ہی ٹی وی دیکھتا ہوں . دیکھوں میں کتنا جوان ہوں . اور میرے دوست کو دیکھو مجھ سے کتنا بوڑھا دکھتا ہے ، روز اخبار پر ایک پاونڈ خرچ کرتا ہے ، ٹی وی پر نیوز چینل کے پیسے دیتا ہے اور اپنا بلڈ پریشر ہائی کرتا ہے اور ہر شام میرا دماغ چاٹتا ہے.

مجھے میاں حضرات کی تکرار اچھی لگی . میں نے بڑے میاں سے پوچھا کہ کیا چھوٹے میاں ٹھیک کہتے ہیں.

بڑے میاں بولے ” اب شائد ٹھیک کہتا ہے ، پہلے میں اسے ڈانٹ دیتا تھا ، ہماری بڑی پرانی یاری ہے . مگر اب مجھے لگتا ہے کہ میں نے وقت برباد کر دیا “. بڑے میاں نے سر سے ٹوپی اتاری اور اپنی والکنگ سٹک کو دونوں ہاتوں میں چہرے کے سامنے زمین پر ٹیک لگاتے ہوے بولے ” جب پاکستان بنا تھا تو ہم لوگ انڈیا میں تھے ، کراچی آئے اور سب کو جنون کی حد تک مسٹر جناح اور پاکستان سے پیار تھا . ہم بہت چھوٹے تھے ، میرے والد صاحب سرمایہ دار انسان تھے انہوں نے مجھے پاکستان بننے سے پہلے یہاں برطانیہ بھجوا دیا . میں پاکستان بننے کے بعد جب پاکستان گیا تو پاکستان کی حالت دیکھ کر لگا کہ یہ ملک نہیں چل پائے گا کیونکہ پاکستان کو پاکستان کا وجود تو ملا مگر تقسیم اس عجیب حالت میں ہوئی کہ کیک کا بڑا اور مزیدار حصہ انڈیا کو دیا گیا ، مگر پاکستان کا سنبھلنا اور چلنا ایک کرشمہ تھا . اللہ نے پاکستان بنایا تھا اور اللہ نے اس کی حفاظت کی “

چھوٹے میاں نے بڑے میاں کو روکا اور بولے ” یار تم نے آج پھر وہی کہانی شروع کر دی.

میں بڑے میاں کی بات سننا چاہتا تھا . میں نے بڑے میاں سے کہا آپ کچھ کہ رہے تھے.

بڑے میاں نے کہا ” پاکستان میں آئین سازی ہوئی ، حکومتیں بنیں ، پاکستان نے جنگیں لڑیں ، پاکستان میں سیلاب زلزلے آئے ، پاکستان میں مارشل لا لگا فوجی حکومتیں آئیں ، پاکستان کو سیاست دانوں نے لوٹا ، پاکستان کی سرحدوں پہ دشمن کے دید بان ہر پل پاکستان کے خلاف سازشیں کرتے رہے ، بنگلہ دیش اور سکوت ڈھاکہ جیسی شرمدگیاں پاکستان کا مقدر بنیں ، پاکستان ہر طرح کے سخت دور سے گزرا اور پھر افغانستان سے پاکستان کو ایک نا ختم ہونے والا مہاجروں کا انسانی سیلاب تحفے میں ملا ، پاکستان سرد جنگ کا وہ مہرہ بنا کہ پاکستان کے دشمنوں کی فہرست طویل تر ہوتی گئی اور پھر ان افغانوں نے پاکستان میں کلاشنکوف کلچر متعارف کروایا ، پاکستان داخلی سیاست کے انتشار کا شکار رہا ، پاکستان کو عالمی دنیا میں کئی بار انتہا پسند اور دہشت گرد ریاست کا لقب ملا ، سیاست دانوں ، وڈیروں ، پیروں اور کاغذی شیروں نے پاکستان کو توڑنے کی کوشش کی مگر اللہ کےحکم سے پاکستان پہ آنچ تک نہ آئی . مگر اب حالات کچھ ایسے ہیں کہ ڈر لگتا ہے “.

بڑے میاں خاموشی کی دیوار کے پیچھے گم ہو گئے . بڑے میاں کی باتوں میں درد ، کرب اور پاکستان کا پیار تھا اور ایک ایسے مسافر کا غم پنہاں تھا جس نے قافلے کے ساتھ اس وقت سفر کا آغاز کیا جب وہ چلنا شروع ہوا مگر منزل پہ پہنچنے سے پہلے اپنوں کے ہاتھوں لٹ گیا.

چھوٹے میاں نے کوشش کی کہ بات کا رخ بدلہ جائے مگر بڑے میاں کی بات ابھی ادھوری تھی . بڑے میاں نے پھر سے بات جاری رکھی اور بولے ” پاکستان کی آج کی صورت حال دیکھ کر سینتالیس میں پنجاب سے آئی کٹی لاشوں سے بھری ریل گاڑی کی بوگیاں یاد آتی ہیں . دیکھو آج کراچی کا کیا حال ہے ، آج فرنٹیر میدان جنگ ہے ، اسلام آباد ، کراچی ، پشاور ، لاہور اور کوئٹہ ایسے ہی سکیورٹی کے حصار میں ہیں جیسے جنگ عظیم دوئم میں یورپ کے شہر تھے . دشمن پہلے باہر کا تھا مگر آج پاکستان میں دشمنوں کی کمی نہیں ہے . پاکستان کا سب سے بڑا دشمن میڈیا ہے جس کی سستی شہرت پاکستان کو لے ڈوبی ہے . پاکستانی سیاست کا یہ حال ہے کہ پاکستان جل رہا ہے اور پاکستان کے نیرو بانسری بجاتے راگ الاپتے “سب اچھا ہے ” کےگیت گا رہے ہیں . حکمران جماعت کہتی ہے ہم قبروں کا ٹرائل نہیں ہونے دیں گے اور ساتھ ساتھ وہ پاکستان میں صرف قبریں ہی کھدوا رہے ہیں .”

بڑے میاں نے ایک حالیہ برطانوی میڈیا سکینڈل کا حوالہ دیا اور بولے ” جمی سیول کی موت کے بعد حکومت نے اس کی ہوس کا شکار بننے والی عورتوں کو ہرجانہ ادا کرنے کے لیے اس کی جاگیر اپنے قبضے میں لیتے ہوے ایک تازہ کمیشن بنایا ہے تاکہ اس بات کی پتہ چلایا جا سکے کہ اس وقت جب یہ شکایات پولیس کو کی گئیں تو عدالتوں نے انصاف کیوں نہیں کیا . کیا یہ قبروں کا ٹرائل ہے ؟ نہیں یہ انصاف کو زندہ رکھنے کی علامت ہے. بی بی سی ایک عالمی ادارہ ہے مگر اس میں بھی کچھ لوگ ایسے تھے جن کی وجہ سے اس ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچا اور اس ادارے نے اپنے وقار اور وجود کی ڈوبتی قدروں کو بچنے کے کیے بڑے بڑے سروں کی قربانی دے دی مگر پاکستا ن میں میڈیا بے لگام گھوڑا ہے . جس کو بات کرنا نہیں آتی وہ تجزیہ نگار ہے . جسے تمیز نہیں وہ اچھی قدروں پہ بولنے والا دانشور ہے اور جس کو زبان نہیں آتی وہ بے زبان کی آواز ہے “.

چھوٹے میاں نے بڑے میاں کو ٹوکا مگر بڑے میاں نے اپنی بات جاری رہی اور بولے “آج پاکستان کی عدالتیں آزاد ہونے کا جو کلیم کر رہی ہیں اس میں انصاف یہی ہے کہ ملک میں عدلیہ اور انتظامیہ میں ایک جنگ ہے جس کا رخ روز بدلتا رہتا ہے . پاکستان کا صدر اور پاکستان کی حکومت دونوں ہی ایک دوسرے کی ترجمان ہیں . دنیا میں کونسا ایسا ملک ہے کہ جہاں صدر اپنے دفتر سے سیاسی پارٹی چلا رہا ہو . یہ عجیب بات ہے کہ دختر پاکستان کا میڈل اور ولایت کا ہنگامی علاج تو ایک ایسی بچی کا مقدر بنا کہ جس نے اس ملک کی لاکھوں خامیاں عالمی میڈیا کو اپنے والد کی مدد سے بتائیں مگر وہ لاکھوں بچے جو پاکستان کے وجود کے قائم ہونے سے اب تک ظلم، جبر، انتہا پسندی کی نظر ہوے بھلا دیے گئے . مولانا حضرات تب خاموش ہوتے ہیں جب ظلم ہو رہا ہوتا ہے مگر جیسے ہی آزاد خیال پاکستان پہ آنچ آتی ہے تو ان کا دین بھی بیدار ہو جاتا ہے . صحافی اب پولیس والا ہے اور سیاست دان عالمی اشرافیہ کا غلام “.

بڑے میاں اداس تھے اور ان کا کمزور جسم غصے میں کانپ رہا تھا . ایسے لگتا تھا پاکستان مجھ سے مخاطب ہے اور اپنا غم بیان کر رہا ہے.

ابھی بات جاری تھی . بڑے میاں کے موبائل کے بجنے کی آواز آئی . بڑے میں نے فون چھوٹے میں کو دے دیا . چھوٹے میاں نے فون کا جواب دیا . چوٹھے میاں نے بڑے میاں کو یاد کروایا کہ آج انکے گھر کچھ مہمانوں نے آنا تھا . بڑے میاں بغیر بولے اپنی واکنگ سٹیک کے سہارے اٹھے اور پارک کے گیٹ کی طرف چلنا شروع ہو گئے . چھوٹے میاں بھی انکے ساتھ ساتھ وہاں سے چلے گئے . میں ان دونوں کو دیکھ رہا تھا ، ایسے لگتا تھا پاکستان کا وجود مجھ سے دور جا رہا ہے. مجھے علم نہیں کہ میری ان دو لوگوں سے اب کب ملاقات ہو مگر میں اپنے پڑھنے والوں سے گزارش کروں گا کہ آپ پاکستان کو بچا لیں آپ ہی پاکستان بچا سکتے ہیں . اللہ مدد کرے گا مگر ہمت آپ نے کرنی ہے . مشکلیں اور وحشی جانور جو اپنے سروں پہ حکمرانی کا تاج سجائے بیٹھے ہیں ان کو کراچی کی خاک پہ بہتا خون اب اچھا لگتا ہے ، ان کو مزہ آتا ہے یہ دیکھ کر کہ ملک جل رہا ہے کیونکہ ان کا ملک پاکستان نہیں ہے یہ یورپ اور امریکہ کے شہری ہیں . ان کی دبئی اور لنڈن میں جاگیریں ہیں . ان کا اس ملک میں کچھ نہیں ، ان کی اولادیں ملک سے باہر ہیں ، ان کے بچوں کے کتے کے بسکٹ ہیرڈ سے جاتے ہیں . یہ پاکستان کا پانی تک نہیں پیتے ….. اگر یہ سب سچ ہے تو پھر آپ ان کو ووٹ کیوں دیتے ہیں . ہاں قبروں کا ٹرائل ہو سکتا ہے ، ہاں انصاف کو زندہ رکھنے کے لیے سلطنت کے حکمران کو عدالت میں گھسیٹا جا سکتا ہے اور ہاں یہ بھی سچ ہے کہ آج پاکستان حالت جنگ میں ہے اور اس پر حملہ باہر سے کوئی نہیں کر رہا مگر دشمن ایوانوں میں بیٹھے ہیں.

میڈیا کبھی کسی کو بےنقاب نہیں کرے گا کیونکہ جب جب یہ لوگ بے نقاب ہوتے ہیں ان کے ساتھ ساتھ وہ صحافی بھی بے نقاب ہوتے ہیں جن کو ان دشمنوں نے اپنے وظیفے پر اپنے کاموں کے لیے ان اداروں میں بٹھایا تھا . یہ وائرس اب بہت دور تک پھیل گیا ہے اور اس کی زد میں سب ہیں اس لیے سب کے لیے اس کے خلاف اٹھنا لازم ہے . بڑے میاں سچ کہتے ہیں ” اب لگتا ہے کہ ہم نے وقت ہی برباد کیا تھا “.

By: انوار ایوب راجہ
anwaar.raja@yahoo.com

Comments

comments

About Fiaz Ahmed

Leave a Reply