Home / Blog / والی بال

والی بال

دیار غیر میں تلاش رزق میں سرگرداں ھم جیسے خانہ بدوشوں کی زندگی کولہو کے بیلوں کی مانند ہوتی ہے۔ خلیجی ممالک میں خصوصا”، ہمارے روز و شب آفس، گھر اور جمعیہ کے درمیان شٹل کاک کی طرح گزرتے ہیں اور اس میں وقت اور دماغی صلاحیتوں کی غالب اکثریت ( اگر دماغ باقی رہ جائے تو) آفس کی مصروفیات کی نذر ہو جاتی ہے اور ہم جناب افتخار عارف کے اس شعر کے مصداق،

دیار “غیر” میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو

کوئی تو ہو جو میری وحشتوں کا ساتھی ھو

اپنی وحشتوں کے ساتھی ڈھونڈھتے رہتے ہیں۔ اس شعر میں افتخار عارف کا مطمع نظر یقینا” کچھ اور تھا لیکن “شادی شدہ” یار باش اپنے “ان” ساتھیوں کو اب ساتھوں میں کم اور “وحشتوں” میں ذیادہ شمار کرتے ہیں۔ اور ساتھی سے ہماری مراد اب وہ تمام “زن گزیدہ” دوست ہیں جو اپنی “وحشتوں” سے “فرار” چاہتے ہیں۔ اس “فرار” کی داستان شروع کرنے سے پہلے میں آپ سے ان “آلات و اوزار” کا ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں جنہوں نے اس فرار میں ہماری بھرپور مدد کی۔۔۔

چہروں کی کتاب

جی ہاں، فیس بک، اغیار کا وہ تحفہ جسے احباب اپنے اپنے ذوق، سوچ اور ضرورت کے مطابق مختلف القاب سے یاد کرتے ہیں۔ -عام خیال یہ کیا جاتا ھے کہ کچھ کالج کے دوستوں کی مشترکہ کاوش تھی جس نے حادثاتی طور پر عالمگیریت کا روپ دھار لیا۔ کچھ ذاھد و عابد احباب کے مطابق یہ “شیطانی چال” ہے جس کا مقصد ہمیں بے راہ روی اور اخلاقی گراوٹ کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیلنا ھے۔ کچھ انقلابی دوستوں کے نزدیک یہ “سیاسی شعور کی بیداری کا ہتھیار” یے، مثال کے طور پر وہ انقلاب مصر کو پیش کرتے ہیں۔ کچھ “بزعم خود” بڑے ذہین و فطین حضرات جن کو اپنی علمیت اور ذاتی اثر و رسوخ کے بل بوتے پر انتہائ باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ یہ ایک “عالمی سازش” ہے جو “انہوں” نے ہماری تمام ذاتی، نظریاتی اور اجتماعی معلومات اکٹھا کرنے کے لئے کی ہے۔ حقیقت کچھ بھی رہی ہو مجھ جیسے سطحی آدمی کے لئے فیس بک نے اس آلہ کا کام کیا جس نے مجھے اور میرے دوستوں کو ان “وحشتوں” سے فرار کی بنیاد فراہم کی۔

ابھی ہم نے چہرہ کتاب کو پڑھنا شروع ہی کیا تھا کہ معلوم ہوا کہ ہم اکیلے ہی مظلوم و ستم گزیدہ نہیں ہیں، احباب کی ایک کثیر تعداد ہے جنہیں اپنے اپنے گھروں کے “سکون و اطمینان” سے کچھ فرصت چاہئے۔ ان دوستوں کی فہرست اگرچہ بڑی طویل ہے لیکن میں کوشش کروں گا کہ چند ایک کا تعارف پیش کرسکوں۔

اس موقع پر برادرم “سجاد نوید” کے فیس بک پر ایک مقبول عام پیج “پاکستانیز ان کویت” کا ذکر کرنا غیر محل نہ ہوگا جو ہمیں ورچوئلی ایک چوپال فراہم کرتی ہے جہاں ھم مختلف سماجی و معاشرتی مسائل پر بحث مباحثہ کرتے رہتے ہیں۔

بہرحال اس پیج پر جب ہم نے اپنا “دکھ” بیان کیا تو پتا چلا کہ

دنیا میں کتنا غم ہے

میرا غم کتنا کم ہی

اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے برادرم خاور عباس بھٹہ نے ایک تجویز پیش کی کہ کیوں نہ کوئ کھیل کھیلا جائے، کسرت بھی ہو جائے گی اور دوستوں سے ملاقات بھی۔ ان کی اس تجویز پر سب نے لبیک کہا سوائے ان دوستوں کے جن کے مطابق کھیلنے اور وہ بھی “عالمی قوانین” سے کھیلنے کے جملہ حقوق پہلے سے ہی ایک عالمی طاقت کے پاس محفوظ ہیں۔

والی بال

آپ شاید سوچ رہے ہونگے کہ میں نے کھیل کا نام غلط لکھ دیا ہے اور آپ کا سوال ہوگا کہ “کونسے” والی بال؟ “فٹ بال”، “بیس بال”، “ہارڈ بال” یا “ٹیپ بال”۔ دراصل اس کھیل کا نام ہی “والی بال” ہے۔ کونسے والی؟ میری طرح آپ بھی اس سوال کو فی الحال تشنہ رہنے دیں۔

بال

کھیل کا انتخاب کرنے کے بعد دیگر سامان کی ضرورت محسوس ہوئی تو معلوم ہوا کہ اس میں ایک بال تو بہرحال چاہئے، وہ تو بھلا ہو “علی احمد” کا جسے سالہا سال کی تحقیق و تجربے کی بدولت علم تھا کہ کونسے والی؟

نیٹ

کھیل کے لوازمات میں بال کے علاوہ ایک “نیٹ” بھی درکار تھا۔ ہم نے موقع غنیمت جانتے ہوئے اپنی علمیت و واقفیت کا رعب جھاڑتے ہوئے احباب کو بتایا کہ عمدہ کوالٹی کا نیٹ مناسب دام پر کہاں سے مل سکتا ہے (حوالے کے طور پر ہم نے خواتین کے جمعہ بازار کی اس دکان کا ایڈریس بھی بتایا جس سے ہم نے پچھلے جمعے کو نیٹ کی 3 قمیصیں خریدی تھیں.) ہماری اس تجویز پر حاضرین نے جن نظروں سے ہمیں دیکھا وہ با لکل ایسے ہی تھا جیسے نیوٹن کے نظریہ اضافت کی دریافت پر اس وقت کے فیشن ڈیزائنرز نے دیکھا ہوگا (اس مثال میں اگر آپ کوئی ربط تلاش کر لیں تو میرا مشورہ ہے کہ آپ پڑھنے کی بجائے لکھنا شروع کر دیں یقینا” مجھ سے بہتر لکھیں گے۔) اس موقع پر “علی احمد” نے پھر میری ڈھارس بندھائی اور ایک عدد نیٹ کا بندوبست بھی اسی نے کیا۔

(جاری ہے)

By: Ijaz Ahmad Ijaz

Comments

comments

About Ijaz Ahmad Ijaz

Leave a Reply